Header Add

تقوی کے فوائد و ثمرات

Print Friendly and PDF

تقوی کے فوائد و ثمرات

اپنے آپ کو اپنے رب کی ناراضگی سے بچانا تقویٰ ہے۔ تقویٰ یعنی اللہ کا خوف تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے وجود سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انس وجن کے لئے تقویٰ کی وصیت فرمائی ہے۔ تقویٰ ہی کل قیامت کے دن نجات دلانے والی کشتی ہے۔ تقویٰ مؤمنین کے لئے بہترین لباس اور بہترین زادِ راہ ہے۔ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس سے دل کی بندشیں کھل جاتی ہیں جو راستے کو روشن کرتی ہے اور اسی کی بدولت گمراہ بھی ہدایت پاجاتا ہے۔ تقویٰ ایک ایسا قیمتی موتی ہے کہ اس کے ذریعہ برائیوں سے بچنا اور نیکیوں کو اختیار کرنا آسان ہوجاتاہے۔ تقویٰ سے متعلق دامادِ رسول حضرت علی ؓ کا ایک قول کتابوں میں مذکور ہے کہ تقویٰ دراصل اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، شریعت پر عمل کرنے، جو مل جائے اس پر قناعت کرنے اور قیامت کے دن کی تیاری کرنے کا نام ہے۔

تقویٰ کی ایک تعریف، جو صحابی رسول حضرت ابی بن کعبؓ نے حضرت عمر فاروق ؓکے دریافت کرنے پر بیان فرمائی تھی، اس طرح ہے:

 حضرت ابی بن کعب ؓ نے اُن سے پوچھا: کیا آپ کبھی کانٹوں والے راستے پر نہیں چلے؟

 حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کیوں نہیں۔

حضرت ابی بن کعب ؓ نے پوچھا کہ اُس وقت تمہارا عمل کیا ہوتا ہے؟

حضرت عمر فاروق ؓ نے کہا کہ میں اپنے کپڑے سمیٹ لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ میرا دامن کانٹوں میں نہ الجھ جائے۔

حضرت ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ بس یہی تقویٰ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

تقویٰ کا اصل مرکز دل ہے البتہ اس کا اظہار مختلف اعمال کے ذریعہ ہوتا ہے، جیساکہ نبی اکرم نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تقویٰ یہاں ہے۔ (مسلم)

غرضیکہ تقویٰ اصل میں اللہ تعالیٰ سے خوف ورجاء کے ساتھ حضور اکرم کے طریقہ کے مطابق ممنوعات سے بچنے اور اوامر پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سینکڑوں آیات میں مختلف انداز سے تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم اور اس کی اہمیت وتاکید کو ذکر کیا ہے۔ تقویٰ سے متعلق تمام آیات کا ذکر کرنا اس وقت میں میرے لئے ممکن نہیں لیکن چند آیات کا ترجمہ پیش کررہا ہوں:

1.     اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے۔ ( آل عمران102)

2.     اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ ( الاحزاب 70) ا

3.     ے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو۔ ( التوبہ119) ا

4.     ے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرو۔ ( الحشر 18)

5.     تقویٰ کوئی ایسا عمل نہیں جو صرف اِس امت کے لئے خاص ہو بلکہ دنیا کے وجود سے لے کر آج تک اور قیامت تک آنے والے ہر شخص سے مطلوب ہے کہ وہ اللہ سے ڈر کر زندگی کے ایام گزارے، فرمان الٰہی ہے:

6.     ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کوبھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کی ہے کہ اللہ سے ڈرو۔ ( النساء131)

خالق کائنات نے اپنے حبیب محمد مصطفی کو بھی تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ سورۃ الاحزاب آیت نمبرایک میں ارشاد باری ہے:

اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہو۔

ذلت کے نقشوں میں عزت دینے والے نے قرآن کریم میں اعلان کردیا کہ اس کے دربار میں مال ودولت اور جاہ ومنصب سے کوئی شخص عزیز نہیں بن سکتابلکہ اس کے ہاں عزت کا معیار صرف اللہ کا خوف ہے۔ جو جتنا اللہ تعالیٰ سے ڈرکر یہ فانی دنیاوی زندگی گزارے گا، وہ اس کے دربار میں اتنا ہی زیادہ عزت پانے والا ہوگا، چنانچہ فرمان الٰہی ہے:

 درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ ( الحجرات13)

اگر کسی شخص سے کوئی غلطی ہوجائے تو فوراً دل سے معافی مانگے، ان شاء اللہ اس کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گالیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم تقویٰ میں بھی ڈنڈی مارنا شروع کردیں، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران102)

 حج کے سفر کے دوران نیز عام زندگی میں ایک مسلمان دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے متعدد چیزوں سے آراستہ ہونا چاہتا ہے، فرمان الٰہی ہے :

اور (حج کے سفر میں) زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو کیونکہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ ( البقرہ 197)

یعنی دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا شریعت اسلامیہ کے خلاف نہیں لیکن سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ یعنی اللہ کا خوف ہے۔ سورۃ الطلاق آیت2 و3 میں رازق کائنات نے اعلان کردیا کہ تقویٰ کا راستہ اختیار کرنے والا دونوں جہاں کی کامیابی حاصل کرنے والا ہے: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لئے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ نیز دوسرے مقام پر فرمایا:

گر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ تم سے دور کردے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ ( الانفال29)

تقویٰ کے مختلف فوائد وثمرات

 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تقویٰ کے مختلف فوائد وثمرات ذکر فرمائے ہیں، چند حسب ذیل ہیں:

1.     ہدایت ملتی ہے ۔( البقرہ2)ایسا علم ملتا ہے جس کے ذریعہ حق وباطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ ( الانفال29)

2.     غم دور ہوجاتے ہیں اور وسیع رزق ملتا ہے۔ ( الطلاق2 و3) اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ ( النحل 128)

3.     اللہ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ (الجاثیہ 19)

4.     اللہ کی محبت ملتی ہے۔ ( التوبہ7)

5.     دنیاوی امور میں آسانی ہوتی ہے۔ ( الطلاق4) گناہوں کی معافی اور اجر عظیم کا حصول ہوتا ہے۔ ( الطلاق 8)

6.     نیک عمل کی قبولیت ہوتی ہے۔ (المائدہ27)

7.     کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ ( آل عمران130)

8.     اللہ کی جانب سے خوشخبری ملتی ہے۔ (یونس 64)

9.     جہنم سے چھٹکارا مل جاتا ہے،جو انتہائی برا ٹھکانا ہے۔ ( مریم 71 و72)

10.                        ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش یعنی جنت میں داخلہ نصیب ہوتا ہے۔

11.                        اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برائیوں سے روکتی ہے۔ (العنکبوت45) ۔

Print Friendly and PDF

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی

Post Add 1

Post Add 2